کیا حضور اکرم ﷺ نے پہاڑ سے گرنے کا ارادہ فرمایا
سوال
زید نے ایک جلسہ عام میں دوران تقریر فرمایا کہ جب چند روز تک وحی کا آنا رک گیا تھا، تو حضور ﷺ نہایت غمگین ہو کر بلند پہاڑوں کی چوٹیوں پر چڑھ جاتے تھے، تا کہ اپنے آپ کو گرا کر خود کشی کر لیں اور زید نے اپنے قول کے اثبات کیلئے بخاری شریف کی وہ حدیث جو باب التعبیر درباره فترة الوحی وارد ہے، پیش کی تو کیا شریعت کی رو سے حضور ﷺ کی طرف خود کشی جیسا برا فعل منسوب کرنا قابل قبول ہو سکتا ہے، کیا زید اپنے قول میں صادق ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب
زید کا بیان صحیح ہے یہ واقعہ صحیح بخاری شریف میں مذکور ہے، حضرت نبی اکرم ﷺ اخلاق وصفات کے اعتبار سے اعلیٰ درجہ پر فائز تھے، جو قرب اور فضل و کمال آپ کو حاصل ہے اور کسی بشر یا ملک کو حاصل نہیں بایں ہمہ آپ ﷺ بشر تھے، طبیعت بشریہ آپ میں موجود تھی، وہ آپ سے جدا نہیں ہوئی تھی، لیکن دیگر افراد بشر میں اس بات میں ممتاز تھے، کہ آپ پر وحی نازل ہوتی تھی، اور اس کے مطابق احکام خداوندی پر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔