بعد بلوغ حق پرورش دادی وغیرہ کو ہے یا خالہ کو؟
سوال
میری دولڑکیاں ہیں، انمیں سے ایک کو بچپن میں انکی خالہ نے اولاد نہ ہونے کی وجہ سے اپنے پاس رکھ لیا اس کے بعد دوسری لڑکی کو بھی دل بہلانے کے واسطے رکھ لیا، جس لڑکی کو خالہ نے اولاً رکھا تھا، اس کا نکاح بھی میری اجازت بغیر کر دیا مگر میں نے اور میرے بھائیوں نے اور والدہ نے کوئی تعرض نہیں کیا کہ شاید دل شکنی ہو، دوسری لڑکی پر بھی اب تک ان کا قبضہ مخالفانہ ہے، اور اس کو بھی اپنے بہکائے میں خالہ اور خالو نے رکھ رکھا ہے، اور یہ بھی ممکن ہے، کہ جو خالہ خالو کہیں وہی لڑکی کہنے لگے، اب چونکہ لڑکی جوان قابل پردہ ہو چکی اور…
جواب
(۱) جی ہاں! خالو سے پردہ فرض ہے اور وہ نامحرم ہے، بشرطیکہ اس سے اور کوئی رشتہ رضاعت وغیرہ کا نہ ہو۔ (۲) ایسی حالت میں باپ کو لازم ہے کہ لڑکی کو اپنے پاس رکھے خالو کے پاس نہ رہنے دے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔