مطلقہ کو حق حضانت کب تک ہے
سوال
زید جب اپنی بیوی کو طلاق دیدے تو ان کی اس بیوی کے بطن سے جو اولاد صغیر ہوں ان کی پرورش کا حق کن کو ملنا چاہئے، اور کس عمر تک مثلاً ایک شخص کی تین اولاد ہیں ایک تقریباً دو ماہ عمر اور دوسرا لڑکا تقریبا چار ساڑھے چار سال کا اور تیسری لڑکی جو تقریباً چھ ساڑھے چھ سال کی ہے، آج کل فتنہ وفساد کا زمانہ ہے، اس لئے زید یہ چاہتا ہے کہ اپنی اولا د کو سوائے سب سے کم عمر والے کے اپنی تربیت ونگرانی میں رکھے اس لئے شرعاً اس بارے میں کہاں تک گنجائش ہے نیز فوری طور پر اگر زید پرورش کا حق کسی طرح نہ رکھ سکتا ہو تو مدت کے بارے میں…
جواب
جب تک زید کی یہ مطلقہ بیوی کسی اجنبی شخص سے نکاح نہ کرے تو خود بچوں کی والدہ کو حق پرورش ہوگا، زید کو جائز نہیں کہ بچوں کو والدہ سے علیحدہ کرے یہاں تک کہ لڑکا خود کھانے پینے پہننے، استنجاء کرنے لگے، اپنی ان چیزوں میں وہ دوسرے کا محتاج نہ رہے، اور عام طور پر بچہ سات سال کی عمر میں اس قابل ہو جاتا ہے، اور لڑکی کو والدہ سے اس وقت تک جدا کرنا درست نہیں کہ لڑکی کو شہوت ہونے لگے اور…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔