مدت حضانت شیعہ سنی مذہب میں
سوال
آپ نے فرمایا ایسی حالت میں لڑکی دین مذہب کو سمجھنے لگے جس کا اندازہ سات سال ہے، یا اس سے پیشتر ہی ماں کے عقائد سے متاثر ہو جانے کا اندیشہ ہو تو اس کو ماں سے علیحدہ کر لینا چاہئے، ہندوستانی عدالتیں سنی قانون مسلمانان پر عمل کرتی ہیں، بارہ برس تک رہ سکتی ہے زوجہ کی طرف سے یہ دلیل پیش کرے کہ وہ اپنی لڑکی کو ماں کے عقائد سے متاثر کرنا نہیں چاہتا، اسلئے سات سال یا اس سے قبل ہی میں لڑکی کو اس کے پاس آجانا چاہئے تو اس کو غالبا کئی حوالے دینے پڑیں گے، تا کہ عدالت اس کی دلیل اور مطالبہ کو تسلیم کرے آنجناب نے فرمایا ہے اس…
جواب
بچہ جب دین کو سمجھنے لگے ماں کے عقائد فاسدہ سے متاثر ہونے کا خوف ہو تو علیحدہ کر لینا چاہئے یہ مسئلہ عامہ کتب فقہ میں مذکور ہے، میں ایک کتاب کی عبارت نقل کرتا ہوں اور چند کتب کے نام مع صفحہ درج کرتا ہوں تاکہ بوقت ضرورت ان کتب میں دیکھنا سہل ہو: وقد جمع فی الهداية بين شيئين فقال مالم يعقل الاديان او يخاف ان يألف الكفر فظاهره انه اذا خيف ان يألف الكفر نزع منها وان لم يعقل دينا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔