الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نانا کو پرورش میں خرچ کردہ روپیہ بچہ کے دادا سے مطالبہ کرنے کا حق

سوال

ایک شخص نے وفات پائی اپنے پیچھے ایک لڑکا چھوڑا اور زوجہ بیوہ، کچھ عرصہ بعد زوجہ کا بھی انتقال ہو گیا مرحوم کا لڑکا اپنے دادا کے پاس پرورش پاتا رہا مگر اس کی والدہ کے انتقال کے بعد دادا نے اس کی پرورش سے انکار کر دیا اور لڑکا اپنے نانا کے یہاں پرورش پاتا رہا، اس کے بعد لڑکے کے نانا نانی نے لڑکے سے کہا کہ جو خرچ ہم نے تیری پرورش پر کیا ہے اپنے دادا سے لے کر ہم کو دے، دریافت طلب یہ امر ہے کہ لڑکا اپنے دادا سے یہ خرچ لے سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

کیا نانا نے پرورش کرنے سے پہلے یہ شرط دادا سے کی تھی کہ اس کی پرورش میں جو خرچ ہو گا وہ تم سے لوں گا؟ اور دادا نے اس شرط کو قبول کر لیا تھا؟ اگر یہ معاہدہ ہو گیا تھا تب تو اس معاہدہ کی وجہ سے نانا کو مطالبہ کا حق حاصل ہے، اگر معاہدہ نہیں ہوا تھا تو حق حاصل نہیں ہوا، بلکہ جو کچھ نانا نے خرچ کیا ہے وہ احسان ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو