الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بچہ کا خرچ گذشتہ ایام کا شوہر سے وصول کرنا اور حق حضانت

سوال

عورت کا لڑکا پونے پانچ سال کی عمر کا اس کے ساتھ ہے یہ پونے تین سال کا خرچ لڑکے کا جب سے یہ میکے بیٹھی ہے خاوند سے شرعاً وصول کر سکتی ہے یا نہیں، اور آئندہ بعد فسخ نکاح سات سال تک سوا دو سال کا خرچ بھی شرعاً لے سکتی ہے یا نہیں، اور اگر یہ عورت اپنا نکاح لڑکے کے غیر محرم سے کرے تو یہ لڑکا حقیقی نانی کی حضانت میں آئے گا، یا والد کی طرف منتقل ہوگا، اور نانی اس کا خرچ لے سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

گذشتہ نفقہ نہیں وصول کر سکتی لیکن اگر زوجین میں معاہد ہو گیا تھا کہ زوجہ جو کچھ خرچ کرلے وہ شوہر سے وصول کرے اس صورت میں حسب معاہدہ وصول کرنا درست ہے۔ آئندہ کا نفقہ شوہر کے ذمہ ہے، چاہے وہ خود خرچ کرے چاہے کسی کو اپنا وکیل بنادے لڑکے کی والدہ کو یا کسی اور کو جب یہ عورت لڑکے کے کسی غیر محرم سے نکاح کر لے تو حق حضانت اس سے ساقط ہو کر نانی کو یہ حق حاصل ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو