الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حق حضانت کس کو اور کب تک ہے؟

سوال

ایک شخص انتقال کرتا ہے اور دو بچہ اپنے بعد چھوڑے ایک لڑکا اور ایک لڑکی، چونکہ لڑکی بالغ ہے اور اس کا عقد ہو گیا اور لڑکا ہنوز نا بالغ بہ عمر دس گیارہ سالہ ہے، چنانچہ لڑکے کی ماں نے عقد ثانی کر لیا، اور ایسے خاندان میں عقد کیا کہ آئندہ لڑکے کی جان ومال خطرے میں ہے اور لڑکے کی بہن تا ہو نے بالغ اس کی پرورش نگہبانی کے لئے ماں سے زیادہ رفیق معلوم ہوتی ہے، چونکہ لڑکے کی ماں کچھ قاصر عقل بھی ہے بذریعہ پنچایت یتیم کا مال محفوظ کر دیا گیا ہے، ایسی صورت میں ولی اس کی بہن ہو سکتی ہے کہ ماں؟ بینوا وتوجروا۔

جواب

لڑکے کی عمر جب دس سال کی ہو گئی تو اب ماں کو اس پر حق پرورش حاصل نہیں، جہاں لڑکے کا رہنا مفید ہو ماں کے پاس یا بہن کے پاس وہیں رہے، حق پرورش سات سال کی عمر تک رہتا ہے، اس کے بعد نہیں رہتا، اگر لڑکے کی عمر سات سال سے کم ہوتی تو اس وقت تفصیل ہوتی کہ اس کی والدہ نے جس شخص سے نکاح کیا ہے اگر وہ اس لڑکے کا ذی رحم محرم نہیں تو بہن کو حق ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو