حق حضانت
سوال
ایک شخص کا نکاح ایک بیوہ عورت سے ہوا ہے اور اس کے ساتھ دولڑکیاں ہیں بعد آٹھ یا دس سال کے لڑکیوں کا دادا یا چچا لڑکیوں کو لینے کے لئے آیا کہ ہماری لڑکیاں ہیں اور ہمارا حق ہے، ان لڑکیوں کو ہم کو دیدو اس مدت میں ان لڑکیوں کی پرورش میں جو خرچ ہوا ہے شریعت کے لحاظ سے کون دے گا، آیا یہ خرچ لڑکیوں کا چچا دادا دیں گے یا جس کے پاس وہ لڑکیاں پرورش پائی ہیں وہ اس کا حق تھا، اور اگر لڑکیوں کا ذکر والدہ کے نکاح کے وقت پیش آیا ہے، تب کیا حکم ہے، بیان فرمائیے مع حوالہ کتب معتبرہ بیان کیجئے۔ فقط بینوا وتوجروا۔
جواب
لڑکیوں کا ولی نکاح کیلئے دادا ہے ماں نہیں، اور حق پرورش اصالہ ماں کو ہے اور جب ماں کسی ایسے شخص سے نکاح کرے جو لڑکیوں کا ذی رحم محرم نہ ہو تو ماں کا حق ساقط ہو جاتا ہے، اگر نانی نہ ہو تو دادی کو ہوتا ہے، پھر بہن کو پھر خالہ کو پھر پھوپھی کو اور یہ حق لڑکیوں کے مشتہاۃ ہونے تک رہتا ہے، جس کا اندازہ نو سال ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔