سات آٹھ ماہ گزرنے پر جو بچہ پیدا ہو وہ ثابت النسب ہے
سوال
زید بمبئی میں رہتا تھا، جب زید گھر آیا تو زید کے آنے کے ۸/۷/ ماہ بعد اس کی اہلیہ کے بچہ پیدا ہوا، زید کو شبہ ہوا، اس کے معلوم کرنے پر ہندہ نے اپنے دیور کا بتلایا، پہلے تو شوہر ہی کا بتلایا تھا، مگر جب برادری کے لوگوں نے زور دیا تو پھر دیور کا بتلانے لگی، تو یہ بچہ کس کا ہے؟ کیا اس میں دیو بندی اور بریلوی کا اختلاف ہے؟ جو شخص شریعت کو نہ مانے اس کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
شادی سے چھ ماہ پورے ہونے پر جو بچہ پیدا ہو وہ شرعاً ثابت النسب ہوتا ہے اس کو حرامی کہنا جائز نہیں ہے اور جب کہ سات آٹھ ماہ کے بعد بچہ پیدا ہوا ہے، تو اس پر کوئی بدگمانی نہ کی جائے، عورت کو مجبور کرنا اور اس سے کوئی اقرار لینا کہ یہ کس کا ہے شرعاً جائز نہیں، اور اس کے اس اقرار سے کہ یہ دیور کا ہے، وہ دیور کا نہیں ہو جائے گا، یہ مسئلہ ایسا ہے کہ اس میں دیو بندی اور بریلوی کا…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔