الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح سے چھ ماہ بعد پیدا ہونے والے بچہ کا نسب

سوال

ہندہ کے شوہر نے اس کو طلاق دے دی طلاق کے تین ماہ بعد ہندہ نے زید سے نکاح کیا زید نے اور زید کے متعلقین نے ہندہ کے والد سے اس امر پر شہادت چاہی کہ اس کی عدت پوری ہو گئی یا نہیں، اس وقت ہندہ کو حمل ہے، یا نہیں، ہندہ کے باپ نے مجلس میں اس بات پر حلف اٹھایا کہ اس کی عدت پوری ہو چکی ہے، اور اس کو حمل نہیں ہے، اس حلف کی بناء پر نکاح ہوا، لیکن ساڑھے چھ ماہ یا پونے سات ماہ بعد ہندہ کے لڑکا ہوا، لڑکے کا ظاہری نشو ونما اس بات کا شاہد ہے کہ یہ پورے نو ماہ کا ہے، کم کا نہیں ہے اور اس کو نکاح کے موقعہ پر تین ماہ کا حمل تھا،…

جواب

اگر ہندہ نے اعتراف کیا کہ میری عدت ختم ہو چکی ہے، اور وہ عادلہ ہے اور زید کو اس کے کہنے کا یقین آگیا تو شرعاً زید کا نکاح ہندہ سے صحیح ہوگا: ولو ان امرأة قالت لرجل ان زوجى طلقني ثلثا وانقضت عدتى فان كانت عدلة وسعه ان يتزوجها وان كانت فاسقة تحرى وعمل بما وقع تحريه عليه كذا في الذخيرة ا هـ عالمگیری ج ۲ ص ۱۸۷.

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو