طلاق کے بعد عدت میں نکاح
سوال
حسن محمد خاں نے اپنی منکوحہ بیوی مسماۃ سردارنی کو بوجہ بے التفاتی اور زبان درازی کے جنوری ۱۹۴۲ء میں ایک طلاق دیدی پھر اس کو سمجھایا گیا، نہ سمجھنے پر ایک ماہ بعد اسکو دوسری طلاق دیدی گئی، بعد ازاں ۱۹۴۳ء میں اس کو تیسری طلاق تحریری دیدی، اب میری برادری مسماۃ سردارنی کو میرے گھر آباد کرنا چاہتی ہے، اب کیا کریں۔ فقط
جواب
اگر دوسری طلاق کے بعد رجعت کر لی ہے، یعنی عدت ختم ہونے سے پہلے طلاق واپس لیکر شوہر وبیوی کی طرح رہنا شروع کر دیا تھا، اور پھر تیسری طلاق دی ہے، یا دوسری طلاق کی عدت ختم ہونے سے قبل تیسری طلاق دی ہے تو اب وہ مغلظہ ہوگئی ہے، اس عورت کو رکھنا حرام ہے، جواز کی صورت یہ ہے کہ عدت ختم ہونے پر عورت کسی شخص سے باقاعدہ نکاح کرے اور وہ ہم بستری کے بعد طلاق دے یا مر جائے، تو عدت گزار کر…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔