تیسری طلاق میں شبہ ہونے کی صورت میں نکاح
سوال
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی۔ بعد میں بیوی چاہتی ہے کہ میں اپنے شوہر کے ساتھ رہوں اور وہ شخص بھی اپنے نکاح میں لانا چاہتا ہے جس کی وہ بیوی تھی اور طلاق کے متعلق دونوں شوہر وبیوی کہتے ہیں کہ دو طلاق کے بارے میں تو یاد ہے، مگر تیسری طلاق کے بارے میں مغالطہ ہے کہ دی ہے یا کہ نہیں۔ دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس واقعہ کو چھ سات ماہ ہو چکے ہیں۔ اب وہ عورت نکاح میں آ سکتی ہے یا نہیں؟
جواب
اگر غالب گمان یہی ہے کہ صرف دو طلاقیں دی ہیں، تیسری طلاق کا غالب گمان نہیں، شک کے درجہ میں ہے اور کوئی ایسا شخص موجود نہیں ہے جس کے سامنے طلاق دی ہو تو اب دوبارہ نکاح کی اجازت ہے۔ لیکن اگر غالب گمان تیسری کا بھی ہے تو اب بغیر حلالہ کے نکاح سے پرہیز کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔