الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

انجکشن سے خون لینا کیا ناقض وضو ہے؟

سوال

ناچیز نماز عصر کے بعد باوضو تھا اسی دوران ہسپتال میں ایک جاں بلب بیمار کو خون کی ضرورت پڑی ناچیز نے اسے اپنا خون دیا ہسپتال سے سیدھا واپس آ کر نماز مغرب تیار تھی باوضو کے خیال میں نماز میں امامت کی، بعد میں ایک مولوی صاحب سے ذکر کیا تو انہوں نے کہا کہ نماز نہیں ہوئی جبکہ دوسرے مولوی صاحب فرماتے ہیں کہ خون ایک رگ سے بذریعہ سوئی اور نالی بوتل میں بھرا اور اسی صورت میں دوسرے بیمار کی رگ کے ذریعہ اس کے جسم میں منتقل کیا گیا ہے ایک قطرہ بھی گرانہیں اس لئے خون بہنے کا مسئلہ نہیں رہا لہذا نماز ہوگئی۔

جواب

خون اگر چہ زمین پر نہیں گرا لیکن اگر نالی اور بوتل نہ ہوتی جسمیں خون لیا گیا ہے بلکہ بذریعہ سوئی ایسے ہی نکالا جاتا تو ضرور بہہ کر زمین پر گر جاتا جیسے جونک لگا دی جائے اور وہ خون چوس لے جو اسکے پیٹ میں چلا جائے، زمین پر ایک قطرہ بھی نہ گرے تو وہ فقہاء کے نزدیک ناقض وضو ہے اسی طرح صورت مسئولہ میں بھی ناقض وضو ہے اس نماز کا اعادہ لازم ہے مراقی الفلاح ص ۵۲ میں ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو