الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

وضو کرتے وقت اور بیت الخلاء میں دخول کے وقت تعوذ کا حکم

سوال

تجوید مبتدی میں لکھا ہے کہ تعوذ قرآن مجید کے علاوہ کسی دوسری کتاب کے شروع کرنے سے پہلے پڑھنا مکروہ ومنع ہے اور علامہ تھانوی نے کسی سائل کو جواب دیتے ہوئے وضو کرتے وقت تعوذ اور بسم اللہ کو جمع کرکے پڑھنے کو افضل لکھا ہے تو کیا وضو کرتے وقت بسم اللہ کے ساتھ تعوذ کو جمع کر کے پڑھنا جائز ہے علامہ تھانوی کا جواب تجوید مبتدی کی عبارت کے خلاف پڑتا ہے؟

جواب

قرآن پاک کے علاوہ کسی اور کتاب کو شروع کرتے وقت اعوذ نہ پڑھا جائے پڑھنے کے علاوہ دوسرے بعض کام ایسے ہیں کہ ان کے شروع میں اعوذ پڑھا جاتا ہے جیسے وضو کرتے وقت اور بیت الخلاء میں داخل ہونے سے پہلے : اللھم اني اَعُوذُ بِكَ مِنَ الْخُبُثِ وَالْخَبَائِثِ وغيره دونوں عبارتوں میں کوئی تعارض نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو