پورے سر اور کانوں کا مسح سنت مؤکدہ ہے
سوال
ایک مسجد کے حافظ صاحب صرف حصہ سر کا مسح کرتے ہیں اور کانوں کے چاروں طرف انگلی نہیں پھراتے کہتے ہیں کہ یہ تو سنت مؤکدہ ہے اس پر بہت سے لوگوں نے ان کے پیچھے نماز پڑھنی ترک کر دی ہے جب ان سے کہا گیا تو نہیں مانے اور نماز انہوں نے نہیں دہرائی تو ان کے لئے کیا حکم ہے؟
جواب
امام صاحب کا طہارت و نماز کے مسائل سے سب سے زیادہ واقف ہونا ضروری ہے۔ سنت مؤکدہ کے ترک ہو جانے سے نماز فرض ادا ہو جاتی ہے اس کا دہرانا واجب نہیں ہوتا لیکن مستقلاً سنت مؤکدہ کو ترک کرنا بھی کوئی ہلکی اور معمولی چیز نہیں آئندہ ہمیشہ اس کا خیال رکھیں گذشتہ نمازوں کے دہرانے کی ضرورت نہیں۔ پورے سر کا اور کانوں کا بھی مسح کیا کریں اس کو ترک نه کریں
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔