کیا پرانے غیر ملکی کپڑے ناپاک ہیں
سوال
موجودہ کوٹ چسٹر سوئیٹر اور دیگر غیر ملکی اشیائے ملبوسات جسکے بارے میں لوگ بتلاتے ہیں کہ یہ نجس ہوتے ہیں، دوسرے یہ کہ وہاں سے آنے میں یا فروخت کرنے کے وقت احتیاط نہیں کی جاتی، لہذا ان مندرجہ لباس کو پہن کر نماز پڑھنے اور پڑھانے میں کوئی گناہ تو نہیں ہے، جب کہ بہت کثرت سے لوگ پہن کر بغیر پاک کئے استعمال کر رہے ہیں؟
جواب
جو کپڑا غیرمسلموں کا بنایا ہوا ہو اس کو نا پاک نہیں کہا جائیگا، جب تک ہمیں نجس شئے کا علم نہ ہو جائے البتہ پتلون اگر اسکا استعمال کیا ہوا ہو تو اس کو بغیر دھوئے پہن کر نماز پڑھنا مکروہ ہے، (کبیری ص ۲۰۳) یہ تو طہارت سے متعلق ہے، فی نفسہ ایسا لباس استعمال کرنا مکروہ ہے، جو دوسروں کا شعار ہو اور نماز میں اسکا استعمال کرنا نماز کیلئے موجب کراہت ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔