استحاضہ
سوال
(۱) ایک عورت استحاضہ کے مرض میں عرصہ سے مبتلا ہے، خون برابر جاری رہتا ہے۔ مہینہ میں کبھی کبھی دو تین دن کا وقفہ ہوتا ہے کبھی وہ بھی نہیں اور اپنی قدیم عادت بھی اسے یاد نہیں ہے۔ ۲ - مہینہ کی کن تاریخوں کو وہ طہر شمار کرے اور کن تاریخوں کو حیض سمجھے؟ ۳ - کن دنوں میں نماز روزہ تلاوت کی پابندی کرے اور کن دنوں میں نہ کرے؟ ۴۔ جن دنوں میں اس پر نماز روزہ فرض ہے اس کی تعین فرمائیں۔ ۵ - جن دنوں میں وہ نماز پڑھ سکتی ہے ان دنوں میں وہ وضو کر کے قرآن پاک کی تلاوت کر سکتی ہے اور قرآن پاک چھوسکتی ہے یا نہیں؟
جواب
ایسی عورت تحری کرے یعنی اگر اس کو اپنی عادت قدیمہ یاد نہیں اور لون سے بھی نہیں پہچانتی تو دل پر بہت زور ڈال کر غور کرے اور خوب سوچے اور اللہ سے دعا کرے، پھر جن ایام کے متعلق اسکا دل گواہی دیکہ یہ حیض کے ایام ہیں انکو حیض کا زمانہ تصور کر لے، ان میں نماز نہ پڑھے نہ روزہ رکھے نہ تلاوت کرے نہ قرآن پاک کو ہاتھ لگائے، ان ایام کے علاوہ بقیہ ایام میں یہ سب کام کرے گی، البتہ ہر نماز…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔