الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حیض کے ایام میں بیوی سے وطی کرنیکے بعد کیا دو غسل ضروری ہیں یا ایک ہی کافی ہے؟

سوال

(۱) جب مجھے مہینہ ہوا تو تین چار دن گذر گئے مگر غسل نہ کر پائی تھی کہ میرا شوہر آیا اور با وجود منع کرنے کے نہ مانا اور خواہش پوری کر لی تو اب دو غسل کرنے پڑینگے ایک ہفتہ کی ناپا کی کا، دوسرے شوہر کے آنے کا، اجتماع والی عورتوں نے کہا ۱۱ ڈھیلے ہونے چاہئیں، سر دھو کر ڈھیلے سے استنجاء پاک کر کے ناف کے نیچے تک بدن کو دھو کر پھر وضو کر کے نہاؤ پھر دوبارہ ناف سے نیچے تک با قاعدہ وضو کرو تب نہاؤ تب پاک ہو سکتی ہو لہذا آپ شرع شریف سے مطلع فرمائیں۔ (۲)

جواب

۱- ان دونوں باتوں کی وجہ سے دو غسل واجب نہیں ہونگے بلکہ ایک ہی غسل کافی ہے۔ ایک غسل میں جتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے بس وہی کافی ہے ۱۱ ڈھیلے سے استنجاء بھی کافی ہے بہشتی زیور میں غسل کا طریقہ لکھا ہے اس کے موافق غسل کر لیا جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو