عورت کے حق میں ایک دن چوبیس گھنٹہ کا ہے
سوال
کسی عورت کو کبھی دو دن کبھی تین دن لگا تار حیض آتا ہے اور پھر بالکل ختم ہو جاتا ہے۔ ایک دو دن کے بعد پھر آتا ہے، کبھی دوتیں دفعہ ہوکر کبھی گھنٹہ دو گھنٹہ رہ کر رک جاتا ہے، پھر ایک دو دن کے بعد ایک آدھ مرتبہ آکر بند ہو جاتا ہے، یہ مجموعہ سات دن کا ہوا، اسی طرح ہمیشہ ہوتا ہے اور کم سے کم چار دن اور زیادہ سے زیادہ سات دن رہتا ہے، ایسی صورت میں کیا کرنا چاہیئے اللہ اور رسول کا حکم کیا ہے کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چھ دن پورا کر کے غسل کر کے نماز پڑھتی ہے۔
جواب
یہ عورت سات روز تک حائضہ شمار ہوگی، اسکے بعد غسل کر کے نماز پڑھے گی ۲۴ گھنٹہ کا ایک دن ایک رات ہے، ۱۲ بجے سے آئندہ دن کے ۱۲ بجے تک دن رات کو مکمل کہا جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔