استنجاء ڈھیلے سے کرنا
سوال
زید عمر و بکر وغیرہ بیت الخلاء میں بلا ڈھیلے کے پانی سے استنجاء کرتے ہیں آیا ان کا یہ عمل جائز ہے یا ناجائز اور اس میں کسی شخص کی تخصیص ہے یا نہیں؟ امید ہے کہ صاف صاف تحریر فرمائیں گے۔
جواب
مسنون طریقہ یہ ہے کہ پہلے ڈھیلے سے استنجا کیا جائے اس کے بعد پانی سے، لیکن اگر کوئی شخص بڑا استنجا ڈھیلے سے نہ کرے بلکہ پانی ہی سے کرے اور صفائی کامل ہو جائے یہ بھی جائز ہے۔ آج کل اہل تجربہ کی رائے ہے کہ پیشاب کے بعد قطرہ اکثر آدمیوں کو آتا ہے اور شاذ و نادر ہی کوئی شخص اس سے مستثنیٰ ہوگا اس لئے چھوٹا استنجاء پانی سے کرنے سے پہلے ڈھیلے سے کرنے کی تاکید کرتے ہیں کیونکہ اگر بعد…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔