الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

ڈھیلے سے استنجاء

سوال

ایک کتاب میں یہ لکھا ہوا ہے کہ استنجا چھوٹا ہو یا بڑا ہر مردو عورت کو کرنا چاہیئے پہلے مٹی یا دوسری چیز سے، اس کے بعد کچھ پانی سے، لہذا آپ تشریح کے ساتھ حکم شرع سے مطلع فرمادیں، کیا عورتوں کو بھی پہلے مٹی وغیرہ استعمال کرنا چاہیئے؟ کتاب والا لکھتا ہے کہ مٹی کے بغیر خالی پانی سے پاک صاف نہیں ہوگا؟

جواب

ڈھیلے سے مردوں عورتوں سب کو استنجاء کرنا چاہیئے اس کے بعد پانی سے استنجاء کریں یہی سنت طریقہ ہے لیکن یہ کہنا غلط ہے کہ اگر ڈھیلے سے استنجاء وغیرہ نہ کیا تو صرف پانی سے پاکی حاصل نہیں ہوگی، البتہ اگر اولا مٹی اور ڈھیلے سے صفائی کر لی جائے اس کے بعد پانی سے پاک کیا جائے تو صفائی خوب حاصل ہو جاتی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو