الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا شیخ صالح کے ہاتھ پر بیعت ضروری ہے؟

سوال

کیا کسی شیخ صالح کے ہاتھ پر توبہ کر لینا شرعا ضروری ہے؟ اگر شیخ صالح نظر نہیں آتا تو پھر کیا کیا جائے؟ کسی جعفری رضوی صدیقی وغیرہ کی بھی شرط ہے یا نہیں؟ بہت سے لوگ بغیر توبہ کے مر جاتے ہیں، ان کا کیا حشر ہوگا؟ تصوف کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بغیر توبہ مر جانا جاہلیت کی موت ہے؟

جواب

توبہ قبول ہونے کے لئے تو یہ ضروری نہیں کہ کسی شیخ کے ہاتھ پر ہی توبہ کی جائے۔ ہر ایک کا معاملہ براہ راست اپنے خدا سے ہے۔ لیکن شیخ صالح کی برکت اور توجہ سے توبہ پر اکثر استقامت نصیب ہوتی ہے ورنہ بسا اوقات آدمی اپنی توبہ توڑ دیتا ہے۔ بغیر توبہ کے دُنیا سے جانا بہت بڑی محرومی ہے۔ توبہ ہمیشہ ہی کرتے رہنا چاہیے۔ قرآن پاک اور حدیث شریف میں بہت تاکید آئی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو