الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بے روزہ کے حق میں سخت الفاظ

سوال

مولوی صاحب نے عید کے روز نماز پڑھانے سے قبل روزہ نہ رکھنے والے کو برا بھلا کہا اور نماز کے متعلق کوئی ذکر نہیں کیا، بعد نماز مولوی صاحب نے کہا کہ مجھ سے غلطی ہوگئی، کہ روزہ داروں کی نماز مکروہ ہوگی، یہ ہماری غلطی ہے کہ جس آدمی نے روزہ نہیں رکھا ہے، اس کو پچھلی صف میں کھڑا کر دیتے کیونکہ یہ لوگ روزہ نہیں رکھے، روزہ بھر انہوں نے خنزیر کا گوشت کھایا ہے۔

جواب

روزہ بھی فرض ہے اور نماز بھی فرض ہے، اگر کسی موقع پر روزہ کا بیان کیا گیا ہے اور نماز کا نہیں کیا گیا تو اس میں کوئی حرج نہیں، اگر نماز میں روزہ دار پچھلی صف میں ہوں اور بے روزہ پہلی صف میں ہوں تو اس سے روزہ داروں کی نماز مکروہ نہیں ہوتی، نماز یا روزہ یا کسی اور دینی کام کے لئے لوگوں کو نصیحت کی جائے تو نرم الفاظ میں زیادہ مؤثر ہوتی ہے سخت الفاظ کہنا مثلاً یہ کہ بے روزہ لوگ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو