رمضان میں اعلانیہ کھانا کھانے کی سزا روزہ کے ایام میں ہوٹل میں کھلانا
سوال
رمضان میں وہ لوگ جن پر روزہ فرض ہوتا ہے علانیہ طور پر روزہ داروں کے سامنے کھاتے پھرتے ہیں، اور بازاروں میں گھومتے پھرتے ہیں، کیا احترام رمضان کی شریعت نے کوئی حد مقرر کی ہے؟ کیا مریض اور مسافرکوشرعاً اجازت ہے، کہ روزہ داروں کے سامنے کھا ئیں، رمضان میں ہوٹل میں کھانا روزہ داروں کے سامنے فروخت کرنا کیسا ہے؟
جواب
مریض اور مسافر کو عذر شرعی کی بناء پر (حائضہ ونفساء کی طرح) روزہ داروں کے سامنے نہیں کھانا چاہئے، سرا کھائے بلا عذر شرعی وہ صورت اختیار کرنا جو سوال میں درج ہے، سخت جرم ہے اور اس کی سزا بھی بہت سخت ہے،مگر سزا دینا ہر ایک کے بس میں نہیں: ولو اکل عمداً شهرة بلا عذر يقتل اهـ طحطاوي ص: ۳۶۳.
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔