چکنے ہاتھ سے مضمضہ واستنشاق روزہ میں
سوال
ایک شخص نے روزہ کی حالت میں اپنے ہاتھ پر سرسوں کے تیل کی مالش کی، پھر وضو کیا ہاتھوں پر چکناہٹ کا اثر باقی تھا، ایسی ہی چکناہٹ سے انگلیوں سے ناک میں پانی لگایا، اور ناک صاف کر کے وضو کرنے کے تھوڑی دیر بعد میں بھی محسوس ہوا کہ زبان پر بھی چکناہٹ کا اثر محسوس ہوتا تھا، نیز حلق کے اندر بھی اور زبان پر بھی، اب شبہ ہوتا ہے کہ پیٹ کے اندر بھی چکناہٹ گئی ہے اس کے علاوہ جب سر میں تیل لگاتا ہے تو حلق اور زبان پر بھی اثر معلوم ہوتا ہے، ایسی حالت میں حلق یا زبان پر چکناہٹ محسوس ہوتی ہے، تو روزہ میں اس سے کیا خرابی اور فرق…
جواب
اس سے روزہ میں فرق نہیں آتا ہے، بعض دفعہ چکناہٹ بہت تیز ہوتی ہے، بغیر کلی اور بغیر ناک میں چکنے ہاتھ سے پانی داخل کئے ہوئے بھی محض سانس کے ساتھ اندر پہنچ کر سر اور حلق کو متاثر کر دیتی ہے اور جب کہ پانی حلق کے اندر داخل نہیں ہوا اور نہ دماغ میں پہنچا تو روزہ پر اثر کیوں پڑے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔