Имеют ли силу известие и свидетельство о новолунии из Пакистана
سوال
امسال بھی عید کے چاند میں بہت گڑ بڑ ہوگئی، ابر کی وجہ سے ۲۹ کا چاند نہیں دیکھا گیا، مگر آٹھ بجے رات کے بعد ریڈیو پاکستان (بمبئی واحمد آباد) حیدر آباد سے چاند کی خبر ملی، وہاں کے مولوی صاحب نے آپ کے فتویٰ کے پیش نظر ریڈیو پاکستان کی خبر مانتے ہوئے چاند کا اعلان کر دیا، اور جمعرات کو نماز عید ادا کی، ہمارے پاس تین جگہ کے فتاویٰ موجود ہیں، ان کو دیکھ کر طبیعت پریشان ہے کہ کس کو مانا جائے، بلیا کے علماء کرام کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک الگ حکومت ہے، وہاں کی خبر یا شہادت ہمارے لئے معتبر نہیں، اور ہندوستان میں کوئی وزیر…
جواب
دار العلوم کے فتوی محررہ ۸۷۳/۲۷ھ میں شروع ہی میں بتا دیا گیا ہے کہ آج کل عامہ ریڈیو پر اس طرح خبر آتی ہے تو اس خبر پر روزہ توڑ نا درست نہیں، اور فرنگی محل لکھنو اور مفتاح العلوم مئو کے فتاوی منقولہ کی بنیاد بھی یہی چیز ہے، اس لئے اتنی بات میں ہر سہ فتاوی متفق ہیں کوئی اختلاف نہیں البتہ دارالعلوم دیو بند کے فتوے میں ایک دوسری شق بھی مذکور ہے، جس سے ریڈیو کی خبر محض خبر کے درجہ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔