الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مطلع کتنے فاصلہ پر بدلتا ہے؟

سوال

شرعاً کتنے فاصلہ پر واقع بلاد کا مطلع ایک سمجھا جاتا ہے، اور کتنے بعد میں مطلع بدل جاتا ہے؟ مسئلہ کی پوری شرح فرمائیں، جن دو شہروں یا ملکوں کا مطلع ایک ہو اور رویت کی خبر صحیح ہو تو اس رویت کی اطلاع پر دوسرے شہر والے روزہ یا عید منا سکتے ہیں، یا نہیں؟ کبھی اگر رویت کی کہیں سے غلط خبر نشر ہوگئی تو پھر کبھی وہاں کے رویت کی خبر کو قبول نہیں کی جائے گی جنتریوں اور کلنڈروں میں جو غروب آفتاب کے اوقات لکھے ہوتے ہیں، اس کے کتنی دیر بعد اذان مغرب دی جائے، منٹ کی وضاحت کریں گے۔

جواب

ایک ہزار میل کے بعد پر مطلع بدل جاتا ہے اگر رویت بطریق شرعی ثابت ہو جائے تو روزہ اور عید کا حکم ہوگا ورنہ نہیں، جنتریوں اور کلنڈروں میں خود ہی اختلاف رہتا ہے، آج کل عامّۃ طلوع وغروب استقراء کا مشاہدہ کر کے جنتریوں کو مرتب نہیں کیا جاتا ہے، زیادہ تر نقل ہی پر اعتماد ہوتا ہے، پھر مرتب کرنے والے اپنے مزاج کے اعتبار سے احتیاط کی بھی رعایت رکھتے ہیں، کوئی کم کوئی زیادہ گھڑیوں میں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو