بہشتی گوہر کی ایک عبارت کی تنقیح
سوال
بہشتی گوہر حصہ یازدہم (مطبوعہ کتب خانہ اختری متصل مدرسہ مظاہر علوم کے ص ۷۰ پر نماز قضا ہو جانے کے مسائل کے تحت مسئلہ نمبر ۲ کی عبارت غالباً نظر ثانی سے رہ گئی، مطبوعہ عبارت یہ ہے اگر کوئی لڑکا نابالغ عشاء کی نماز پڑھ کر سوئے اور بعد طلوع فجر بیدار ہو کر منی کا اثر دیکھے جس سے معلوم ہو کہ اس کو احتلام ہو گیا ہے، تو بقول راجح اس کو چاہئے کہ عشاء کی نماز کا اعادہ کرے، اور اگر قبل طلوع فجر بیدار ہو کر منی کا اثر دیکھے تو بالا تفاق عشاء کی نماز قضا پڑھے قدیم وجدید متعدد نسخے دیکھے، سب میں یہی عبارت طبع ہوئی ہے جس کی…
جواب
نماز بالغ ہونے پر فرض ہوتی ہے، اس سے پہلے ادا کی ہوئی فرض متصور نہ ہوگی، جس نا بالغ نے عشاء کی نماز پڑھی پھر سو گیا، اور اس کو احتلام ہوا، جس سے وہ بالغ شمار ہو گیا، اور اس پر نماز فرض قرار دی گئی، اس کے متعلق فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر وہ طلوع فجر سے پہلے اس نوم بیدار ہوا تو اس پر بالا جماع عشاء کی نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے، اس لئے کہ وہ وقت عشاء ختم ہونے سے پہلے بالغ اور مکلف…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔