الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مغرب کی نماز کے لئے سفر کر کے مخصوص مسجد میں جانا

سوال

شہر برہان پوری میں حضرت شاہ نظام الدین بھکاری کے زمانہ سے مغرب کی نماز موصوف کی درگاہ کے پاس ہوتی ہے، خطیب جامع مسجد نماز پڑھاتے ہیں، دور دراز سے لوگ اس کے لئے سفر کر کے آتے ہیں، اور یہ مشہور کر رکھا ہے کہ چار یا سات سال مغرب کی نماز وہاں ادا کر لے تو ایک حج کا ثواب ملتا ہے، کیا اس طرح نماز پڑھنا اور پڑھانا اور ایسا عقیدہ رکھنا جائز ہے؟ بینوا توجروا۔

جواب

یہ طریقہ بے اصل ہے، اس کی کوئی بناء شرع میں نہیں ہے، تین مساجد کے متعلق مخصوص ثواب کی تصریح احادیث میں موجود ہے (۱) مسجد حرام (۲) مسجد نبوی (۳) مسجد اقصیٰ، ان کے علاوہ کسی اور مسجد کے لئے سفر کرنے کی ممانعت ہے ”لَا تَشُدُّوا الرِّحَالَ إِلَّا إِلَى ثَلاثَةِ مَسَاجِد،، (الحديث)

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو