مقتدی سے فرض کہہ کر سنت پڑھنا
سوال
زید ہمیشہ عصر سے پہلے چار رکعت سنت پڑھنے کا عادی تھا، ایک روز اس کا دوست بکر آ گیا اور کہا چلو دونوں آدمی چلکر جماعت سے فرض پڑھ لیں آج سنت نہ پڑھو تو کیا حرج ہے، اس پر زید نے کہا کہ میں ہمیشہ سنت پڑھتا آیا ہوں، بغیر سنت کے فرض نہ پڑھوں گا، اس پر دونوں بہت دیر تک بحث کرتے رہے، آخر میں زید نے بکر کے شر سے بچنے کے لئے سنت کی نیت کر کے کہا کہ اچھا چلو میں فرض ادا کرتا ہوں، یہ کہہ کر سنت کی نیت باندھ لی، اور بکر مقتدی بن گیا، سلام پھیرنے کے بعد زید نے کہا میاں ہم نے تو سنت پڑھی ہیں، اب پھر سے دونوں فرض پڑھیں گے، بکر نے…
جواب
بکر کا زید کو سنت سے روکنا شرعاً مذموم ہے، پھر زید کا بکر کو دھوکہ دے کر فرض بتا کر سنت پڑھنا بھی شرعاً مذموم ہے، لیکن جب بکر کو معلوم ہو گیا کہ زید نے سنت پڑھی ہے تو بکر کو فرض پھر ادا کرنا چاہئے بکر فرض ادا نہیں کرے گا تو بکر کے ذمہ فرض باقی رہے گا، اور بکر گنہگار ہوگا، لیکن اگر بکر کے نزدیک زید جھوٹا ہے اور اس نے فرض پڑھ کر یہ کہا ہے کہ میں نے سنت پڑھی ہے، تو بکر کے ذمہ فرض…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔