الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قبولیت دعاء کے شرائط

سوال

میں مقروض ہوں اور ہر عمل میں نے کیا ہے، اللہ رب العزت کے دربار میں میری کوئی دعاء مقبول نہیں ہوتی، اور نہ کوئی عمل مقبول ہوتا ہے، آپ نے بھی ایک بار یہ دعا بتلائی تھی، اللهُمَّ اكفنِي بِحَلالِكَ عَنْ حَرَامِكَ وَاغْنِنِي بِفَضْلِكَ عَمن سواک“ ہر نماز کے بعد گیارہ گیارہ بار پڑھتا ہوں، لیکن یہ بھی قبول اور منظور نہیں ہوتی ہے، درود شریف کے ساتھ پڑھتا ہوں، اور عاجزی بھی اللہ تعالیٰ سے بہت کرتا ہوں لیکن عاجزی بھی منظور نہیں ہوتی ہے، اور مصیبت پر مصیبت آ رہی ہے؟

جواب

جو شخص یہ کہتا ہے کہ میری دعاء قبول نہیں ہوتی، اس کی دعاء واقعہ اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتے، اس لئے ایسا ہرگز نہ کہیں، اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہر چیز کا وقت مقرر ہے، ہر چیز اپنے وقت پر ہوتی ہے، اس لئے جلدی کا تقاضہ نہیں کرنا چاہئے، بلکہ سمجھنا چاہئے کہ دعاء کے قبول ہونے میں جو کچھ دیر ہو رہی ہے، تو اس میں بھی مصلحت ہے، پھر یہ کہ دعاء کے قبول ہونے کے لئے شرائط بھی ہیں، کھانا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو