سری نماز میں جہر
سوال
منفرد شخص نے اپنی جہری نمازوں میں تیسری اور چوتھی رکعت میں سورہ فاتحہ کو قصداً زور سے پڑھا تو نماز ہوگی یا نہیں؟ اسی طرح اگر سنتوں میں قصداً قرأت زور سے پڑھے تو کیا حکم ہے اور کیا سہواً قرأت زور سے کرنے کی صورت میں سجدہ سہو کافی ہو جائیگا؟
جواب
جس جگہ سرا پڑھنا واجب ہے وہاں قصداً سورۂ فاتحہ زور سے پڑھنے سے نماز فاسد نہیں ہوگی، لیکن ترک واجب کی وجہ سے مکروہ ہو گی اور اعادہ لازم ہوگا اور ایسے موقع میں سہواً زور سے پڑھنے سے سجدۂ سہو لازم ہوگا اور سجدہ سہو سے نماز صحیح ہو جائے گی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔