اولین میں ضم سورہ بھول گیا
سوال
وإن قرء الفاتحة في صلواة العشاء في الأوليين ولم يزد عليها قرأ في الاخريين الفاتحة والسورة وجهر (هدايه) اس مسئلہ سے معلوم ہوا کہ نفس قرآت سورۃ فوت ہونے سے بعد والی رکعت میں فرض نماز میں تلافی ہو سکتی ہے تو کوئی شخص پہلی ایک رکعت یا دونوں رکعت میں ضم سورہ کی تلافی کر سکتا ہے یا نہیں؟ اسی طرح مغرب کی تیسری رکعت میں تلافی ہو سکتی ہے۔ اگر پہلی یا دوسری رکعت میں ضم سورہ بھول جائے اور جہری طور پر پڑھ سکتا ہے یا نہیں؟ اور اگر کوئی شخص کوئی اور سورہ علاوہ فاتحہ کے پڑھ لے (ایک یا دونوں رکعت میں) تو اس کا کیا حکم ہوگا؟
جواب
پہلی دونوں رکعتوں میں اگر ضم سورت بھول جائے یا مغرب کی پہلی رکعت میں بھول جائے تو اخیر کی دو میں اور مغرب کی تیسری میں فاتحہ کے بعد ضم سورہ کرے اور جہر بھی کرے،لوترک السورة في ركعة من أولي المغرب أو فى جميع أولي العشائين قرأها اى السورة وجوباً على الأصح في الأخريين من العشاء والثالثة من المغرب مع الفاتحة جهراً بهما على الأصح ويقدم الفاتحة ثم يقرأ السورة وهو الأشبه (مراقی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔