قضا نماز اور اس کا فدیہ اور حیلہ
سوال
اگر کوئی شخص بے فکری کی وجہ سے یا دوسری اغراض کی وجہ سے اپنی نماز قضا کرتا ہو۔ یا تو بے فکر ہے۔ کیونکہ دل کا مالک خدا ہے کہ اس نے کیوں قضا کیا تو بظاہر اس کو کیا کہا جائے گا؟ اور اگر وہ اپنی طاقت کے موافق تو اس کو ادا کرتا ہے مگر پھر بھی عمر بھر کے اندر پانچ سو، ہزار وقت کی باقی رہ جائے تو اس کا فدیہ کیا ہوگا؟ اور فدیہ کے اندر کوئی ترکیب یعنی حیلہ بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ اور یہ فدیہ غریب اور امیر دونوں کے واسطے ایک ہے یا الگ؟ ایسے ہی حیلہ کا حکم دونوں قسم کے آدمیوں کے واسطے ایک ہوگا یا الگ؟
جواب
نماز فرض عین ہے اس کو ترک کرنا خطرناک اور کبیرہ گناہ ہے پھر اس کی قضاء پڑھنا فرض ہے کہ جتنی نمازیں بھی ذمہ میں ہوں سب کی قضا جلد از جلد پڑھے ہرگز غفلت نہ کرے پانچ سو ہوں یا ہزار ہوں سب کی قضا پڑھے۔ پوری کوشش کے باوجود اگر کچھ نمازیں ذمہ میں باقی رہ جائیں تو ان کے متعلق فدیہ کی وصیت کر دے۔ ہر نماز کے عوض ایک صدقۃ الفطر کے برابر دینا لازم ہے یہ وصیت ایک تہائی ترکہ سے لازم ہوگی۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔