نماز روزہ کا فدیہ
سوال
ایک شخص کی بحالت بیماری دو وقت کی نمازیں قضا ہوئیں اور چھ رمضان کے روزے قضا ہو گئے اور اس شخص کا انتقال ہو گیا اب ان روزوں اور نمازوں کا کفارہ کس حساب سے ادا کرنا یعنی فی نماز روزہ کیا فدیہ دیا جاوے اور کفارہ ایک ہی محتاج کو دیدیا جاوے یا کئی کو، بینوا توجروا.
جواب
اس سے معلوم ہوا کہ ہر نماز ہر روزہ کے فدیہ میں وہی مقدار دی جاتی ہیں جو صدقہ الفطر میں دیجاتی ہیں اور وتر مستقل نماز کے حکم میں ہے یہ تمام فدیہ ایک کو دینا بھی جائز ہے اور کئی کو بھی لیکن ایک فدیہ سے کم دینا جائز نہیں ولو ادى الى الفقير اقل من نصف صاع لم يجز ولواعطاه الكل جاز . در مختار ص۳۰۸ جا، ولو اعطى فقيراً واحداً جملة جاز بحرص ۹۱ ج ۲،
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔