تراویح کی دو رکعت پر درود شریف اور چار پر تسبیح
سوال
رمضان کے مہینہ میں ہمارے یہاں مسجد میں ایک واقعہ پیش آیا کہ پہلے ہم لوگ حسب معمول رمضان کے مہینہ میں تراویح کی دو رکعت کے بعد درود شریف دو مرتبہ پڑھتے ہیں، اور دو رکعت کے بعد یعنی چار رکعت کے بعد تسبیح یا مقلب العباد پڑھتے ہیں، اسی طرح روزانہ دونوں ورد پانچ مرتبہ پڑھ لیتے ہیں لیکن اس کے بعد مقتدیوں نے گزارش کی کہ نماز میں جلدی کی جائے، کیونکہ گرمی کی شدت ہے، اور مچھر کاٹتے ہیں،امام صاحب نے حالات کو مد نظر رکھ کر دو رکعت کے بعد درود شریف بند کر دیا، اور فرمایا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ تراویح کی چار رکعت کے بعد…
جواب
تراویح کی بیس رکعت پڑھی جاتی ہیں، ہر چار رکعت پر کچھ دیر بیٹھنا چاہئے اس وقت جس کا دل چاہے قرآن کریم کی تلاوت کرے، جس کا دل چاہے تسبیح واستغفار کرے، جس کا دل چاہے خاموش بیٹھا رہے، کسی بات کی شرعاً کوئی پابندی نہیں کسی پر کوئی اعتراض نہیں، دو رکعت پر بیٹھنا یا کچھ پڑھنا ثابت نہیں کسی غیر ثابت چیز پر اصرار کرنا شرعاً غلط ہے ایک شخص نے چھینک کی اس پر کہا الحمد لله والسلام على…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔