تہجد کی جماعت اور تداعی کا مطلب
سوال
اگر کوئی شخص رمضان میں تہجد کی نماز میں پورا قرآن شریف ترتیب سے پڑھے تو تہجد کی نماز با جماعت ہو سکتی ہے یا نہیں؟ آپ نے اس کا جواب لکھا تھا کہ تہجد کی نماز رمضان میں باجماعت پڑھی جاسکتی ہے لیکن تداعی نہیں ہونا چاہئے۔ (۱) تداعی کا مطلب واضح طور پر بیان فرمائیں۔ (۲) اگر نماز میں اس کی جگہ تہجد کی نماز با جماعت ہو رہی ہو اور اس میں قرآن شریف ترتیب سے پڑھا جارہا ہو جماعت میں دس یا پندرہ یا اس سے زیادہ آدمی روزانہ بغیر کسی دعوت واعلان کے شریک جماعت ہو جاتے ہیں تو کیسا ہے؟ (۳)
جواب
(۱) ایک امام ہو اس کے پیچھے ایک یا دو مقتدی ہوں تو بلا تکلف درست ہے۔ تین مقتدی ہوں تب بھی گنجائش ہے۔ اس سے زیادہ مقتدی ہوں تو یہی تداعی ہے۔ (۲) بلا دعوت واعلان کے بھی، یہ صورت تداعی کی ہے۔ (۳) یہ بلانا اور اعلان کرنا بھی ثابت نہیں اس سے پرہیز کیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔