الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شرابی کی نماز

سوال

(۱) شراب پئے ہوئے شخص کو نماز ادا کرنی چاہئے یا نہیں اور شراب پی کر نماز ادا کرنے پر گنہگار ہوا یا نہیں؟ (۲) ایک صاحب فرماتے ہیں کہ اول شراب پی کر گنہگار ہوا۔ دوسرے شراب پئے ہوئے نماز پڑھی تو اور دوسرا گناہ اس نے کیا، دوسرے صاحب کہتے ہیں کہ شراب پینے پر گنہگار ضرور ہوا مگر نماز ادا کرنے پر نماز کا اجر وثواب ضرور پائے گا ان دونوں میں سے کس کا قول صحیح ہے؟

جواب

(۱) ایسے شخص کو اس حالت میں بھی نماز ضرور پڑھنی چاہئے لیکن شراب کو ترک کرنا بھی لازم اور فرض ہے جب تک شراب کا کوئی قطرہ پیٹ میں رہے گا اللہ تعالیٰ کے دربار میں نماز قبول نہیں ہوگی (۲) شراب سے گنہگار ہونے پر تو سب کا اتفاق ہے اس لئے اس کا چھوڑ نا بھی سب کے نزدیک ضروری ہے نشہ نہ ہونے کی حالت میں ہوش وحواس صحیح رہتے ہوئے نماز پڑھنے سے فریضہ نماز ادا ہو جائے گا اور اس نماز سے وہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو