امام صاحب کی چند قابل اصلاح غلطیاں جو کہ مفسد صلوٰۃ نہیں
سوال
ہمارے محلہ کی مسجد کے پیش امام صاحب نماز پڑھاتے وقت حسب ذیل عمل خلاف سنت اور خلاف آداب نماز عمل میں لاتے ہیں۔ کیا ان کی غلطیوں پر نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ اور مقتدیوں کی بھی نماز ہوتی ہے یا نہیں؟ (۱) نماز پڑھاتے وقت جب امام صاحب مصلے پر کھڑے ہوتے ہیں تو رکوع وسجود کے وقت ان کے داہنے پیر کا انگوٹھا اپنی اصلی جگہ پر قائم نہیں رہتا۔ اس حرکت سے وہ نماز ختم ہونے تک تقریباً پانچ انگل وہ مصلے سے بھی پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ اپنی اصل جگہ پر قائم نہیں رہتے۔ (۲)
جواب
(۱) اس سے نماز فاسد نہیں ہوئی لیکن اس کی اصلاح کی جائے۔ (۲) اس کا بھی یہی حکم ہے، (۳) اس کا جواب بھی یہی ہے۔ (۴) اس کا حکم بھی یہی ہے۔ (۵) اس کا حکم بھی یہی ہے (۶) اس کا حکم بھی یہی ہے۔ نماز ان سب صورتوں میں ہو جاتی ہے اور اقتداء واتباع میں خرابی نہیں آتی۔ تاہم ان امور کی امام صاحب کو اصلاح کرنی چاہئے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔