الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امام کی خدمات

سوال

(۱) ایک شخص پیش امام مسجد ہے اور وہی روٹیاں بھی محلہ میں سے لاتا ہے مسجد کا پانی بھی گرم کرتا ہے اور کوئی مر جائے تو تجہیز وتکفین غسل وغیرہ کرتا ہے کیا ایسے شخص کو امام بنانا اور نماز پڑھنا اس کے پیچھے درست ہے؟ (۲) اگر شخص مذکور کی جگہ کوئی دیگر شخص جبر نماز پڑھانے لگ جائے اور قدیمی پیش امام کو روک دیا جائے آدھا محلہ ادھر آدھا محلہ اُدھر اور پہلا پیش امام بھی ناراض ہے کہ مجھ کو کس واسطے ہٹا دیا گیا ہے دونوں میں سے کس کے پیچھے نماز افضل ہے؟ فقط

جواب

اگر امامت اور پانی گرم کرنے پر وہ ملازم ہے اور اس کی اجرت میں محلہ سے روٹیاں لاتا بھی ہے تو اس سے اس کی امامت میں نقصان لازم نہیں آتا اگر محلہ سے روٹیاں لانا اجرت میں نہیں بلکہ ویسے ہی از خود مانگ کر لاتا ہے اور باوجود کسی مشروع طریق پر کمانے کی قدرت کے اس مانگنے کو پیشہ بنا رکھا ہے تو یہ پیشہ نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو