الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نابینا کی امامت

سوال

ایک حافظ جو کہ قاری بھی ہیں۔ ایک مسجد میں بحیثیت امام مسجد تقرر کیا گیا یہ صاحب مسائل نماز اور دیگر امور دینی سے واقف ہیں اور دوسرے لوگوں کو بھی دینی تعلیم دیتے ہیں حافظ موصوف نابینا شادی شدہ ہیں اور ان کے والد اور چھوٹے بھائی ان کو ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں ان کو اپنی طہارت وپاکی کا بہت خیال ہے نیز خطبات جمعہ کافی تعداد میں ان کو یاد ہیں جس کی تصدیق امتحان لے کر دو مستند علماء نے کی ہے اس کے برعکس اور دو تین اصحاب مسجد کی امامت کے لئے کوشاں ہیں اور وہ مسائل نماز اور مسائل دین سے ناواقف ہیں اور زبان عربی سے تو…

جواب

عبارت بالا سے معلوم ہوا کہ نابینا کی امامت اس وقت مکروہ ہے کہ وہ نجاست سے نہ بچ سکتا ہو استقبال قبلہ پر بنفسہ قادر نہ ہو وضو وغیرہ طہارت کے استیعاب سے قاصر ہو اور جب یہ امور اس میں نہ ہوں تو اس کی امامت مکروہ نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو