الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نابینا امام کے کچھ اوصاف

سوال

اس شخص کی امامت جائز ہے یا نہیں اول تو نابینا ہے دوسرے دڑے کے حرف بتلاتا ہے اب تو یہ دڑا شاہ آباد سے جاتا ہی رہا پہلے سٹا بتلاتا تھا۔ تیسرے مسجد کی جماعت کو چھوڑ کر حجرہ ہی میں نماز پڑھ لیتے ہیں چوتھے اکثر لوگوں نے دیکھا ہے کہ ایک غیر عورت غیر وقت یعنی رات کے گیارہ بجے تک آتی ہے اور گھنٹوں باتیں کرتے رہتے ہیں۔ یہ عورت چال چلن کی خراب ہے کچھ لوگ امام صاحب سے بدظن ہو گئے اور اپنی جماعت اسی مسجد میں علیحدہ پڑھتے ہیں اور جماعت ثانیہ کے لئے تکبیر جائز ہے یا نہیں اور امام صاحب بے وضو اذان کہدیتے ہیں حقہ کثرت سے پیتے ہیں؟

جواب

سوال میں امام مذکور کے متعلق چند امور قابل اعتراض ذکر کئے گئے ہیں اول نابینا ہونا دوم دڑے کے حرف بتلانا، سوم جماعت کی پابندی نہ کرنا۔ چہارم غیر عورت سے باتیں کرنا، پنجم بلا وضو اذان کہنا۔ ششم حقہ پینا۔ امراول: کے متعلق یہ ہے کہ اگر نابینا پاکی اور طہارت کا اچھی طرح خیال رکھتا ہو تو اسکی امامت بلا کراہت درست ہے اگر گلی کوچوں میں پھرتا ہو پاکی اور طہارت کا خیال نہ کرتا ہو تو…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو