حافظ فاسق کی امامت
سوال
ایک شخص حافظ قرآن ہے لیکن وہ شریعت کی رو سے فاسق ہے اور یہ حافظ صاحب رمضان المبارک میں قرآن شریف بھی سناتے ہے اور جس مسجد میں یہ حافظ قرآن شریف سناتے ہیں اس میں حافظ صاحب معین ہیں جو کہ تمام سال اس مسجد میں امامت کراتے ہیں یہ امام صاحب اس کے پیچھے تراویح کی نماز اور عشاء کے فرض وغیرہ بھی پڑھتے ہیں اور اہل محلہ میں سے بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھتے اور اس کے فاسق ہونے کی وجہ سے ہماری تو نماز نہیں ہوتی۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ آیا اس حافظ صاحب کے پیچھے نماز پڑھنی جائز ہے یا نہیں؟
جواب
سائل نے ان حافظ صاحب کے فسق کی کوئی تفصیل بیان نہیں کہ بلکہ مجمل سوال کیا لہذا جواب مطلق کا دیا جاتا ہے اب اس کی تحقیق خود سائل کے ذمہ ہے کہ صورت مسئولہ میں فاسق کی تعریف صادق آتی ہے یا نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔