الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

امامت فاسق

سوال

زید ایک دارالعلوم میں تعلیم وتدریس دیتا ہے اور جامع کا خطیب بھی ہے بکر اس کا تلمیذ رشید ہے زید اس کے ساتھ لواطت کرتا ہے زید کی اس حرکت شنیعہ سے مطلع ہونے کے بعد بکر سے حلف دے کر دریافت کیا جاتا ہے وہ (بکر) اس حرکت کا اعتراف کرتا ہے تو کیا ایسے خطیب کی امامت شرعاً جائز ہے؟ زید عرصہ دوسال سے ایک دارالعلوم میں درس وتدریس کرتا ہے اور ایک سال سے جامع کا خطیب بھی ہے زید چند طلباء سے لواطت کا مرتکب ہوا چنانچہ نہایت خلوص اور ادب سے زید سے استفسارات کئے گئے جس پر زید نے انکار کیا اور قسمیں اٹھائیں زید ہر بڑی اور چھوٹی بات…

جواب

اگر یہ واقعات صحیح ہیں تو ایسے شخص کو امام بنانا مکروہ تحریمی ہے جب تک وہ پختہ توبہ نہ کرے اور دوسرا امامت کا اہل آدمی موجود ہو تو اس کو امام نہ بنایا جائے بلکہ اس دوسرے آدمی کو امام بنانا چاہئے۔ كره امامة العبد والاعمى والاعرابي وولد الزنا الجاهل والفاسق اھ۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو