نابالغ کے کھڑے ہونے کی جگہ
سوال
نماز کی صف بندی کے لئے صاف ذہنیت ہونے کے باوجود بچوں کی صف پیچھے رکھی جاتی ہے درانحالیکہ اگلی صف خالی ہوتی ہے جب کہ صف خالی نہ رکھنے کا علم ہے جب آدمی ہوں۔ پھر یہ کہ بعد میں آنے والے نمازی کو بچوں کے آگے سے گذر کر اگلی صف میں جانا پڑتا ہے۔ بہت سے لوگ بچوں کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یا تو اسی بچوں کی صف میں کھڑے ہونا پڑتا ہے حالانکہ اگلی صف پر نہیں ہوتی۔ تو جو نقصان بچوں کو جوانوں کے ساتھ رکھنے میں ہوتا ہے وہ آخر کار ہوتا ہی ہے۔ تو کیا بچوں سے گذر کر اگلی صف میں جانا درست ہے۔
جواب
صفوں کی ترتیب یہ ہے کہ نا بالغوں کی مستقل صف بالغین کی صف سے پیچھے ہو، بالغین کی صف میں نہ کھڑے ہوں اگر بالغین کی صف میں جگہ باقی ہے اور کوئی بالغ آجائے تو وہ نا بالغوں کی صف میں نہ کھڑا ہو۔ بلکہ ان سے آگے بڑھ کر بالغین کی صف میں کھڑا ہو، اس سب کے باوجود اگر کوئی امرد بالغ قریب کھڑا ہو جائے تو اس سے اس بالغ کی نماز خراب نہیں ہوگی، وہ عورت کے حکم میں نہیں نابالغ اگر تنہا ہو تو…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔