ثناء پڑھنے کا وقت
سوال
زید امامت کے لئے کھڑا ہوا، اور قد قامت الصلوۃ پر نیت باندھ لی، مقتدی اور مکبر حضرات نے بعد تمام اقامت فورا نیت باندھی لیکن امام کے سورہ فاتحہ شروع کرنے کی وجہ سے ثنا نہیں پڑھ سکے، یہ زید کی عادت ہے کہ ثنا پڑھنے کی مہلت نہیں دیتا، بعد نماز عمر نے اعتراض کیا کہ اے زید امام ہم تمام مقتدی مکبر کب ثنا پڑھیں، زید جواب دیتا ہے کہ ثناء نہ پڑھی جائے تو کوئی بات نہیں، اگر ثناء پڑھنا ہو تو قد قامت الصلواۃ پر فورا میرے ہمراہ نیت باندھو اور ثنا پڑھو، اور ثنا کی ذمہ داری میرے اوپر نہیں ہے، عمر سوال کرتا ہے زید سے کہ مقتدیوں کو…
جواب
وشروع الامام في الصلواة مذ قيل قد قامت الصلواة ولو اخر حتى اتمها لا بأس به اجماعاً وهو قول الثانى والثالث وهو اعدل المذاهب كما في شرح المجمع لمصنفه وفى القهستاني معزياً للخلاصة انه الاصح) (درمختار) قوله وهو التاخير المفهوم من قوله اخر قوله انه الاصح لان فيه محافظة على فضيلة متابعة المؤذن واعانة له على الشروع مع الامام (رد المحتار، ج ۱/ص ۳۲۲)
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔