کیا نیت کیلئے زبان سے کہنا ضروری ہے
سوال
جو کام نماز سے پہلے جائز تھے نماز میں تکبیر تحریمہ کے بعد جائز ہے کیا، امام نے تکبیر تحریمہ کرلی اس کے بعد مقتدی کا نیت کرنا یعنی زبان سے نیت کے الفاظ کا دہرانا کیسا ہے، ہمارے امام صاحب کا کہنا ہے کہ مقتدی اللہ اکبر کہہ کر جماعت میں شامل ہو جائے، ان کا یہ کلام درست ہے کیا؟ نیت کی کیا تعریف ہے جس کام کے کرنے کا ارادہ دل سے ہوا اسے نیت کہتے ہیں یا دل کی بات کو زبان سے دہرایا جاتا ہے، اس کو نیت کہتے ہیں کسی مقصد کے تحت جو کلمات زبان سے نکلتے ہیں اس کو اقرار کہتے ہیں کیا؟
جواب
قطعا نہیں ”النية عزم القلب على الفعل، کسی بھی کام کے لئے دل کی آمادگی کا نام نیت ہے، اور شرعی اصطلاح میں اطاعت وقرب خداوندی کے لئے کسی کام کے کرنے کا نام اس کو نیت کہتے ہیں، زبان سے اقرار ضروری نہیں، اور زبان سے کہنا بھی ممنوع نہیں” واصطلاحا قصد الطاعة والتقرب الى الله تعالى في ايجاد فعل -حموى على الاشباه، ص ۲۹ - بہت سی باتیں مقصد واضح کرنے کی نظر سے مثال کے طور پر بھی پیش کی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔