نماز کی نیت کا طریقہ
سوال
ہم لوگوں کے یہاں نیت کے بارے میں کچھ اختلاف چل رہا ہے وہ یہ کہ لوگ اس طرح نیت کرتے ہیں کہ نیت کرتا ہوں واسطے نماز فرض، فرض پڑھتا ہوں، واسطے اللہ کے چار رکعت اللہ اکبر، اور سنت کی بھی اسی طرح کرتے ہیں، اور منہ میرا کعبہ شریف کی طرف اللہ اکبر، میں نے ان سے اس طرح کہہ دیا کہ نیت صرف اس طرح کیا کرو کہ نیت کرتا ہوں اس نماز کی واسطے اللہ کے چار رکعت نماز فرض جو وقت ہو اس کا نام بھی لیوے تو اس پر سوال یہ ہوا کہ سنت رسول کو اس بات پر بھول ہوا کہ ہم رسول کا نام چھوڑ رہے ہیں، اور اس بارے میں اب حدیث مانگتے ہیں حاصل یہ کہ…
جواب
جس طرح وہ لوگ نیت کرتے ہیں، اس طرح بھی درست ہے، اور جس طرح آپ نے نیت بتائی ہے وہ بھی ٹھیک ہے، نا واقف لوگوں سے اس قسم کے مسائل میں نہیں الجھنا چاہئے، اتنا خیال رہے کہ جو جماعت کے ساتھ نماز ہو تو مقتدی کو یہ بھی نیت کرنی چاہئے کہ پیچھے اس امام کے اور نیت اصل میں دل سے ہوتی ہے، اگر زبان سے کچھ بھی نہ کہا اور صرف دل میں ارادہ کر کے اللہ اکبر کہہ دیا تب بھی درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔