الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عربی میں نیت نماز

سوال

کوئی آدمی مثلا فجر کی نماز میں نیت عربی میں یوں کرے کہ نویت ”ان اصلی لله تعالى ركعتي صلواة الفجر فرض الله تعالى متوجها إلى جهة الكعبة الشريفة الله اکبر “ اس طریقہ سے نیت کر کے نماز پڑھنا نماز ہو جائے گی یا نہیں کیا یہ الفاظ قرآن واحادیث سے ثابت ہیں یا نہیں؟

جواب

نیت نام ہے ارادہ قلبی کا جو چیز کرنے کے لئے دل میں سوچ لی جاوے وہی نیت ہے یہی چیز دل میں سوچی گئی ہے، اس کو زبان سے استحباباً کہا تو اس سے نماز میں خرابی نہیں آئی، بغیر زبان سے کہے صرف دل کی سوچی ہوئی نیت پر کفایت کرے تب بھی کافی اور درست ہے، طریقہ مذکورہ پر زبان سے کہنا قرآن واحادیث سے ثابت نہیں” النية هي الارادة لا العلم والمعتبر فيها عمل القلب اللازم للارادة وهو ان يعلم…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو