نفل نماز میں اپنے نفل کی نیت کرنا
سوال
ایک شخص عرصہ سے نفل نماز کی نیت اس طرح باندھتا ہے” نیت کی میں نے دو رکعت نماز نفل کی نفل اپنے واسطے اللہ تعالیٰ کے منہ میرا کعبہ شریف کی طرف وقت فلاں کیا یہ طریقہ شرک میں داخل ہے یا نہیں؟
جواب
اس کا مطلب یہ ہے کہ نفل اللہ نے لازم قرار نہیں دی اس لئے اس کے نہ پڑھنے پر کوئی پکڑ نہیں، بلکہ میرا اپنا حق ہے۔ اگر پڑھوں گا تو مجھے ثواب ملے گا نہیں پڑھوں گا تو ثواب سے محروم رہونگا، اس لئے یہ شرک نہیں اور ایسے شخص کو مشرک نہیں کہا جائے گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔